ان 8 غذاؤں کو زندگی کا حصہ بنا ئیں اور اپنی ہڈیوں کو مضبوط اورخود کو چاق و چوبند کریں

ہمارے جسم میں جس طرح دماغ، دل، پھیپھڑے اور آنکھوں کا مضبوط اور چاق و چوبند ہونا ضروری ہے اسی طرح ہماری ہڈیوں کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ انسانی جسم کا ڈھانچہ ہڈیوں کے سہارے کھڑا ہوا ہے

لیکن آج کل جس طرح کی تیز رفتار زندگی ہے ہم لوگ اپنی ہڈیوں کا بلکل بھی خیال نہیں کرتے اور کھانوں کے معاملے میں صرف ذائقے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کھانوں کے فائدے اور تاثیر سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ یہ سب سے بڑی غلطی ہے اور پھر ہڈیوں کا معاملہ تو اتنا سنگین ہے کہ زندگی بھر انسان کی
اگر ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں تو ہی وہ مختلف کام کرسکتا ہے ورنہ صرف بستر کی حد تک رہ جاتا ہے۔
اس کا اندازہ ان لوگوں کو بخوبی ہوگا جن کے ساتھ اس قسم کے حادثے ہوچکے ہیں کہ کسی کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو یا کسی کو فریکچر ہوگیا ہو،،، کیونکہ ہڈی جُڑ تو جاتی ہے مگر کبھی اس کی تکلیف نہیں جاتی، اور جب
سردی کا موسم شروع ہو جائے تو ہڈیوں میں درد اتنا بڑھ جاتا ہے کہ بیٹھنے کے بعد اٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی جو کہ بہت درد ناک ہے۔
دہی میں پروبایوٹیکس، کیلشیئم، پوٹاشیم، وٹامن ڈی، اے اور فولیٹ شامل ہوتے ہیں جو ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر کے بعد ہونے والے درد کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس لئے اس کو
روزانہ چاہے ایک چمچ ہی کھائیں مگر استعمال میں لازمی رکھیں۔
دودھ میں کیلشیئم، فاسفورس، وٹامنز اے اور ڈی پایا جاتا ہے اسی لئے وہ بچے جنہں شروع سے دودھ پلایا جاتا ہے ان کی ہڈیاں بڑھاپے تک مضبوط رہتی ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ ہڈیوں کا مسئلہ ہے تو روزانہ دن میں دو کپ دودھ لازمی پیئیں ایک
مرتبہ رات کو سوتے وقت اور ایک مرتبہ صبح نہارمنہ یہ دونوں وقت دودھ پینے کے لیے مناسب اس وجہ سے ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت ہمارا میٹابولزم سست ہوتا ہے اور دودھ پینے سے میٹابولزم بھی بوسٹ ہوتا ہے ساتھ ہی اس میں موجود کیلشئیم براہِ راست ہڈیوں کے فلوئیڈ میں شامل ہو کر آپ کو فائدہ دیتے ہیں
پنیر میں کیلشیئم دودھ کے مقابلے دو گنا زیادہ ہوتا ہے اس کے ساتھ اس میں وٹامن اے، بی 12، زنک اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے جو ہڈیوں کے کڑکنے کی آوازوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ہرے پتوں والی سبزیوں جیسے پالک، ہرا دھنیا، پودینہ، گوبھی اور ساگ میں کیلشیئم، اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامن کے اور سی
ہوتا ہے ان کو اپنی روزمرہ غذا میں استعمال کرنے سے نہ سرف ہڈیوں مضبوط ہوتی ہیں ساتھ ہی آپ کا مدافعتی نظام بھی بہتر ہوتا ہے۔
خشک میووں میں میگنیشم ہوتا ہے جس کو ہڈیاں اپنے اندر جذب کرلیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسم کے لحاظ سے خشک میوے کھانے صحت کے لئے بہت ضروری ہیں۔ریسرچ کے مطابق
آلو بخارے میں موجود شیئم، وٹامن سی اور ڈیٹاکسنگ ایجنٹس ہڈیوں کو 20 فیصد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں ساتھ ہی جسم کے فاضل مادوں کو نکالتے ہیں۔

More from All

You May Also Like

A brief analysis and comparison of the CSS for Twitter's PWA vs Twitter's legacy desktop website. The difference is dramatic and I'll touch on some reasons why.

Legacy site *downloads* ~630 KB CSS per theme and writing direction.

6,769 rules
9,252 selectors
16.7k declarations
3,370 unique declarations
44 media queries
36 unique colors
50 unique background colors
46 unique font sizes
39 unique z-indices

https://t.co/qyl4Bt1i5x


PWA *incrementally generates* ~30 KB CSS that handles all themes and writing directions.

735 rules
740 selectors
757 declarations
730 unique declarations
0 media queries
11 unique colors
32 unique background colors
15 unique font sizes
7 unique z-indices

https://t.co/w7oNG5KUkJ


The legacy site's CSS is what happens when hundreds of people directly write CSS over many years. Specificity wars, redundancy, a house of cards that can't be fixed. The result is extremely inefficient and error-prone styling that punishes users and developers.

The PWA's CSS is generated on-demand by a JS framework that manages styles and outputs "atomic CSS". The framework can enforce strict constraints and perform optimisations, which is why the CSS is so much smaller and safer. Style conflicts and unbounded CSS growth are avoided.